Mazaron Par Chadar Charhana Aur Dhagay Bandhna | Islam Kya Kehta Hai?

Mazaron Par Chadar Charhana Aur Dhagay Bandhna | Islam Kya Kehta Hai?

Free

 



کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا؟ اور ایک روایت میں قبروں پر مسجدیں بنانے اور چراغ روشن کرنے والوں کے بارے میں بھی سخت وعید بیان ہوئی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آج پاکستان میں لاکھوں لوگ مزارات پر چادریں چڑھاتے ہیں، دھاگے باندھتے ہیں اور اپنی حاجتیں پوری ہونے کی امید میں مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں۔ تو کیا یہ واقعی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں؟ اور اگر رسول اللہ ﷺ نے قبروں کے معاملے میں اتنی سخت تنبیہ فرمائی تھی، تو پھر یہ رسومات ہمارے معاشرے میں کیسے رائج ہو گئیں؟


اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی ان احادیث کو سمجھنا ہوگا جن میں قبروں کو عبادت گاہ بنانے سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے حبشہ کے ایک گرجا گھر کا ذکر کیا جس میں تصویریں موجود تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں میں جب کوئی نیک شخص فوت ہو جاتا تو وہ اس کی قبر پر عبادت گاہ بنا دیتے اور اس میں تصویریں لگا دیتے تھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایسے لوگ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔ صحیح بخاری، حدیث 427۔


غور کیجیے، یہاں بات ایسے لوگوں کی ہو رہی ہے جو اپنے نیک بزرگوں کی تعظیم کرتے تھے۔ ابتدا میں شاید ان کا مقصد صرف ان کی یاد کو زندہ رکھنا ہو، لیکن رفتہ رفتہ قبروں کو عبادت گاہ بنا دیا گیا۔ اسی خطرے سے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو بار بار خبردار فرمایا۔ صحیح مسلم کی حدیث 532 میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات سے صرف پانچ دن پہلے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا کرتے تھے۔ خبردار! تم قبروں کو عبادت گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔ ذرا سوچیے، اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بھی رسول اللہ ﷺ اس معاملے کی سنگینی واضح فرما رہے تھے۔


اسی طرح صحیح بخاری، حدیث 435 میں رسول اللہ ﷺ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی، کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک انسان سے محبت اور اس کا احترام اپنی جگہ، لیکن اس کی قبر کو عبادت کا مرکز بنانا ایک الگ معاملہ ہے۔ اسلام میں کسی انسان کا مقام کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو، عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے۔ نہ کوئی نبی عبادت کا مستحق ہے، نہ کوئی ولی، نہ کوئی بزرگ اور نہ کوئی دوسری مخلوق۔


جامع ترمذی کی حدیث 320 میں قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں، قبروں پر مسجدیں بنانے والوں اور چراغ جلانے والوں کے بارے میں بھی سخت وعید منقول ہے۔ البتہ اس روایت کی سند کے بارے میں محدثین کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ اسی طرح خواتین کے لیے قبروں کی زیارت کے حکم میں بھی علماء کی مختلف آرا ہیں۔ بعض علماء ممانعت کے قائل ہیں، جبکہ بعض شرعی آداب کے ساتھ زیارت کی اجازت دیتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے میں موجود علمی اختلاف کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ تاہم قبروں کو عبادت گاہ بنانے کی ممانعت صحیح اور واضح احادیث سے ثابت ہے۔


اب یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے قبروں کے معاملے میں اتنی واضح تعلیمات دی تھیں، تو پھر ہمارے معاشرے میں مزارات پر چادریں چڑھانے، دھاگے باندھنے، چراغ روشن کرنے اور مخصوص منتیں ماننے کی رسومات کیسے رائج ہو گئیں؟ اس کا جواب سمجھنے کے لیے برصغیر کی تاریخ کو دیکھنا ضروری ہے۔ برصغیر میں اسلام کی آمد کے بعد مختلف علاقوں میں صوفی بزرگوں، علماء اور مبلغین نے دین کی تعلیمات پہنچائیں۔ ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں علم، اصلاح اور خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دیں۔ ان کے انتقال کے بعد لوگوں نے ان کی قبروں کی زیارت شروع کی، اور وقت گزرنے کے ساتھ بعض مقامات پر مختلف مقامی اور ثقافتی رسومات بھی ان مزارات سے وابستہ ہوتی چلی گئیں۔


یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر رسم کو لازماً کسی ایک مذہب سے منسوب کرنا تاریخی طور پر درست نہیں۔ بعض روایات مقامی ثقافت سے تعلق رکھتی ہیں، بعض صوفی معاشرت کے زیرِ اثر رائج ہوئیں، اور بعض مختلف علاقوں میں الگ الگ صورتوں میں سامنے آئیں۔ لیکن کسی رسم کا صدیوں سے رائج ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اسلام کا لازمی حصہ بھی ہے۔ دین کے معاملے میں اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ قرآنِ مجید اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اس بارے میں کیا رہنمائی دیتی ہیں۔


لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے قبروں کی زیارت سے بھی منع کر دیا ہے؟ ہرگز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے خود قبروں کی زیارت کی اجازت دی اور اس کا مقصد بھی واضح فرمایا۔ صحیح مسلم، حدیث 976 میں آپ ﷺ کا فرمان ہے:


فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ


قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔


یہ حدیث ہمارے سامنے ایک بنیادی اصول رکھتی ہے۔ قبرستان انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔ وہ انسان جو کبھی دنیا میں چلتا پھرتا تھا، جس کے اپنے خواب تھے، خواہشات تھیں، رشتے تھے اور مستقبل کے منصوبے تھے، آج مٹی کے نیچے ہے۔ ایک دن ہمیں بھی اسی منزل کی طرف لوٹنا ہے۔ قبرستان جانے کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان اپنے انجام کو یاد کرے، اپنے اعمال پر غور کرے، اللہ سے مغفرت مانگے اور فوت شدہ مسلمانوں کے لیے دعا کرے۔


رسول اللہ ﷺ نے قبرستان جاتے وقت اہلِ قبور کے لیے سلامتی اور مغفرت کی دعائیں بھی سکھائیں۔ صحیح مسلم، حدیث 975 میں قبرستان کی زیارت کے موقع پر پڑھی جانے والی دعا منقول ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے مردوں کے لیے دعا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ لیکن قبروں کی زیارت اور قبروں سے حاجتیں طلب کرنے کے درمیان ایک بنیادی فرق موجود ہے، جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔


مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص کسی نیک بزرگ کی قبر پر جا کر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتا ہے اور اپنی موت کو یاد کرتا ہے، تو یہ ایک معاملہ ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ قبر میں دفن بزرگ اللہ سے الگ، اپنی مستقل قدرت کے ذریعے اس کی بیماری دور کر سکتے ہیں، رزق دے سکتے ہیں یا اس کی تقدیر بدل سکتے ہیں، تو یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے متعلق ہے جو صرف اسی کے لیے مخصوص ہیں۔ قرآنِ مجید بار بار واضح کرتا ہے کہ حقیقی اختیار اور قدرت اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔


اسی طرح فوت شدہ نیک لوگوں کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے مسئلے میں علماء کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ بعض علماء مخصوص صورتوں میں توسل کو جائز سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے علماء اس کی بعض صورتوں کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس علمی اختلاف کو یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ کسی مزار پر دھاگا باندھنا، چادر چڑھانا یا کسی مخصوص رسم کو دعا کی قبولیت کے لیے ضروری سمجھنا بھی دین کا حکم ہے۔ کسی عمل کو عبادت یا دعا کی قبولیت کا لازمی ذریعہ قرار دینے کے لیے شرعی دلیل درکار ہوتی ہے۔


آج ہمارے معاشرے میں کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنی زندگی کی پریشانیوں سے تنگ آ کر مختلف مزارات کا رخ کرتے ہیں۔ کوئی ماں اپنے بیمار بچے کی صحت کے لیے دھاگا باندھتی ہے۔ کوئی نوجوان روزگار ملنے کی امید میں چادر چڑھاتا ہے۔ کوئی بے اولاد جوڑا اولاد کی خواہش لے کر جاتا ہے، اور کوئی پریشان انسان سمجھتا ہے کہ اگر اس نے مخصوص مزار پر منت نہ مانی تو شاید اس کی دعا قبول نہیں ہوگی۔ ان لوگوں کی تکلیف، ان کی بے بسی اور ان کی امیدیں حقیقی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ تک اپنی فریاد پہنچانے کے لیے واقعی ان رسومات کی ضرورت ہے؟


قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت 186 میں فرماتا ہے:


وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ


اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔


اسی آیت میں اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے کہ وہ دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے۔ غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی قربت کا یقین دلایا ہے۔ نہ اس نے دعا کے لیے کسی مزار پر دھاگا باندھنے کی شرط رکھی، نہ کسی قبر پر چادر چڑھانے کو ضروری قرار دیا۔ انسان چاہے اپنے گھر میں ہو، مسجد میں ہو، سفر میں ہو یا کسی پریشانی میں مبتلا ہو، وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے دعا کر سکتا ہے۔


سورۃ غافر کی آیت 60 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ


تم مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔


یہ الفاظ ایک ایسے انسان کے لیے کتنے بڑے اطمینان کا ذریعہ ہیں جو اپنی زندگی کے کسی مشکل ترین وقت سے گزر رہا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خود سے دعا مانگنے کی دعوت دی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی امیدوں کا اصل مرکز اللہ تعالیٰ ہی کو بنانا چاہیے۔


یہاں ایک بات اور سمجھنا ضروری ہے۔ کسی مزار پر جانے والے ہر انسان کے عقیدے کو ایک جیسا سمجھنا یا محض کسی ظاہری عمل کی بنیاد پر کسی مسلمان پر شرک کا حکم لگا دینا درست نہیں۔ لوگوں کے عقائد، نیتیں اور اعمال مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی مخصوص عمل کے شرعی حکم اور کسی فرد پر حکم لگانے کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے معاملات میں علم، حکمت اور احترام کے ساتھ گفتگو کرنی چاہیے، نہ کہ نفرت اور توہین کے ساتھ۔


اصل مسئلہ کسی نیک انسان کی عزت کرنے کا نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کا ہے کہ عزت اور عبادت کی حدود کہاں الگ ہوتی ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں سے محبت کیجیے، ان کی اچھی تعلیمات سے سبق سیکھیے، ان کے لیے دعا کیجیے، لیکن اپنی عبادت اور اپنی امیدوں کا اصل مرکز صرف اللہ تعالیٰ کو رکھیے۔


اس لیے اگلی بار جب آپ کسی مزار یا قبرستان میں جائیں تو اپنے دل سے ایک سوال ضرور کیجیے۔ کیا میں یہاں موت اور آخرت کو یاد کرنے آیا ہوں؟ کیا میں یہاں دفن انسان کے لیے دعا کرنے آیا ہوں؟ یا میں نے اپنی امیدیں ایسی رسومات سے وابستہ کر لی ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے دعا کی قبولیت کی شرط نہیں بنایا؟


کیونکہ جس رب نے آپ کو پیدا کیا، جو آپ کے دل کی ہر بات جانتا ہے، جو آپ کے آنسوؤں اور آپ کی خاموش دعاؤں سے واقف ہے، اس تک اپنی فریاد پہنچانے کے لیے آپ کو کسی دھاگے یا چادر کی ضرورت نہیں۔ اپنے ہاتھ اسی کے سامنے اٹھائیے، اپنی ضرورت اسی سے بیان کیجیے، اور اپنی امید اسی سے وابستہ رکھیے۔


کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:


وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ


اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو بے شک میں قریب ہوں۔


سورۃ البقرہ، آیت 186۔


Search This Blog

Powered by Blogger.

No Thumbnail Image

No Thumbnail Image

About Us

About Us
Taybii Vibes shares Urdu Islamic articles and reading content, with Quran and Sunnah references.

Nazar e Bad Ki Haqeeqat Islam Mein | Mirch Jalana Aur Kala Dhaga Bandhna

  اردو مسودہ / مکمل کتاب کا متن کتاب کا عنوان: نظرِ بد کی حقیقت اور اس سے حفاظت کا اسلامی طریقہ مصنف: taybii vibes فہرستِ ابواب باب 1: ...

Contact Form

Name

Email *

Message *