Ghazwa-e-Uhud Ka Azeem Sabaq | Na Kamzor Paro Na Gham Karo | Surah Al Imran Ayat 139
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔
سورۃ آلِ عمران، آیت 139
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ آیت مسلمانوں پر اُس وقت نازل ہوئی جب وہ غزوۂ اُحد میں ایک انتہائی تکلیف دہ آزمائش سے گزرے تھے؟ وہ صحابہ کرامؓ جو بدر میں فتح حاصل کر چکے تھے، اُحد میں اپنے ساتھیوں کی شہادت دیکھ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ زخمی ہو چکے تھے، حضرت حمزہؓ شہید ہو گئے تھے، اور مسلمانوں کے دل غم سے بھرے ہوئے تھے۔ تو پھر ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں کمزور نہ پڑنے اور غم نہ کرنے کا حکم کیوں دیا؟ کیا ایمان رکھنے والے انسان کو کبھی دکھ اور شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑتا؟
غزوۂ اُحد تین ہجری میں پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی، لیکن جب تیر اندازوں کے ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے خلاف اپنی مقررہ جگہ چھوڑ دی، تو جنگ کا رخ بدل گیا۔ مسلمانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا اور تقریباً ستر صحابہؓ شہید ہوئے۔
یہ صرف ایک جنگی نقصان نہیں تھا۔ یہ اُن لوگوں کے لیے بہت بڑی آزمائش تھی جنہوں نے اپنا گھر، اپنا مال اور اپنی زندگیاں اسلام کے لیے وقف کر دی تھیں۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی واقعے کے بعد مسلمانوں کو ایک ایسا سبق دیا جو صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا۔
سورۃ آلِ عمران کی اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو دوسرے لوگوں کو بھی ایسا زخم پہنچ چکا ہے، اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔
یعنی دنیا میں حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ کبھی کامیابی ملتی ہے، کبھی نقصان ہوتا ہے، اور کبھی انسان کی اپنی غلطیاں بھی اسے ایسی آزمائش میں ڈال دیتی ہیں جس کا اس نے تصور نہیں کیا ہوتا۔
لیکن یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ نہیں فرمایا کہ تمہیں کبھی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ بلکہ تکلیف پہنچنے کے بعد انہیں ہمت، ایمان اور ثابت قدمی کی تعلیم دی۔
آج بھی انسان کی زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جب برسوں کی محنت ضائع ہوتی محسوس ہوتی ہے، کوئی عزیز بچھڑ جاتا ہے، یا کوئی امید ٹوٹ جاتی ہے۔ ایسے وقت میں غم محسوس کرنا ایمان کی کمزوری نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بھی غم اور تکلیف کے لمحات آئے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی آزمائش کے بعد امید چھوڑ دیتے ہیں، یا اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے دوبارہ کھڑے ہوتے ہیں؟
غزوۂ اُحد ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک شکست انسان کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتی، اور ایک مشکل وقت اللہ کی رحمت ختم ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اُن مسلمانوں کو، جو زخموں اور غم کے ساتھ اُحد سے واپس آئے تھے، یہ الفاظ یاد دلائے:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
اور نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم ایمان والے ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔
