کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔ تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟
﴿ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ أَمْ لَكُمْ كِتَابٌ فِيهِ تَدْرُسُونَ إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا تَخَيَّرُونَ ﴾
ترجمہ: "تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ تمہارے لیے اس میں ضرور وہ سب کچھ ہے جو تم پسند کرو؟"
سورۃ القلم، آیات 36-38۔
لیکن یہ سوال یہاں اچانک نہیں آیا۔۔۔ اس کے پیچھے ایک پورا معاملہ ہے۔ مکہ کے مشرکین رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو جھٹلاتے تھے، آخرت اور جزا و سزا کا انکار کرتے تھے، اور مسلمانوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتے تھے جن کا قرآن نے یہاں سختی سے رد کیا۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ﴾ یعنی "کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں جیسا کر دیں گے؟" پھر فوراً فرمایا: ﴿فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ﴾۔۔۔ "تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟" مفسرین نے واضح کیا ہے کہ یہاں ان کے اس بےبنیاد تصور کو رد کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے ہاں مسلمان اور مجرم برابر ہوں گے، یا یہ کہ وہ آخرت میں بھی اپنی مرضی کا انجام حاصل کر لیں گے۔
اور پھر قرآن کا انداز دیکھیے۔۔۔ اللہ تعالیٰ ان کے دعوے کو ایک کے بعد ایک سوال سے توڑتے ہیں: کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہیں وہی ملے گا جو تم پسند کرو؟ کیا تمہارے اور اللہ کے درمیان کوئی ایسا پکا عہد ہے کہ قیامت تک تم جو فیصلہ کرو گے، وہی نافذ ہوگا؟ یا تمہارے پاس کوئی ایسا ضامن ہے جو اللہ کے سامنے تمہاری بات منوا دے؟ یعنی تم آخر کس دلیل کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر رہے ہو؟ قرآن کا یہ انداز صرف جواب نہیں دیتا۔۔۔ ان کے دعوے کی بنیاد ہی ختم کر دیتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ آیت آج ہمارے لیے بھی ایک بہت گہرا سوال بن جاتی ہے۔ کیونکہ انسان کی ایک عجیب عادت ہے۔۔۔ وہ اپنی خواہش کو دلیل سمجھنے لگتا ہے۔ جو چیز اسے پسند آئے، وہ اسے اپنے حق میں بہتر سمجھ لیتا ہے، اور جو چیز اس کی مرضی کے خلاف ہو، اسے برا سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن قرآن پوچھتا ہے: تم نے یہ فیصلہ کیسے کر لیا؟
ہم کسی چیز کو چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ملنی ہی چاہیے۔ کسی انسان کو چاہتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی میں رہنا ہی چاہیے۔ کسی راستے کو پسند کرتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ کامیابی اسی میں ہونی چاہیے۔ پھر جب اللہ ہماری مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی خواہش کو حق سمجھ لیا۔۔۔ جبکہ خواہش حق کی دلیل نہیں ہوتی۔
آپ کو صرف یہ معلوم ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔ اللہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ چیز آپ کے ساتھ کیا کرے گی۔ آپ آج کا لمحہ دیکھتے ہیں۔۔۔ اللہ انجام دیکھتا ہے۔ آپ ایک دروازہ کھلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔۔۔ اللہ اس دروازے کے پیچھے موجود پوری حقیقت جانتا ہے۔
اور شاید اسی لیے کبھی انسان برسوں بعد اپنی زندگی کو دیکھ کر کہتا ہے: "میں تو اس چیز کے لیے رو رہا تھا۔۔۔ اور مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ مجھے اس سے بچا رہا ہے۔"
اس لیے اللہ سے مانگنا چھوڑنا نہیں ہے۔۔۔ دعا کرنا چھوڑنا نہیں ہے۔۔۔ اپنی خواہش اللہ کے سامنے رکھنا بھی چھوڑنا نہیں ہے۔ لیکن اپنی خواہش کو اللہ کے فیصلے سے بڑا بھی نہیں بنانا۔
کیونکہ دعا میں ہم اپنی ضرورت بتاتے ہیں۔۔۔ حکم اللہ کا ہوتا ہے۔
اور قرآن کا یہ سوال صرف مکہ کے ان لوگوں کے لیے نہیں کہ "تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟" بلکہ ہر اُس انسان کے لیے غور کرنے کی دعوت ہے جو کبھی اپنی محدود نظر سے اللہ کے فیصلے پر سوال اٹھانے لگتا ہے۔
فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔؟
تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟

